Sunan Abi Dawood Hadith 5233 (سنن أبي داود)

[5233] إسنادہ ضعیف

أبو ھمام عبد اللہ بن یسار: مجہول (تقریب: 3718) وثقہ ابن حبان وحدہ.

قال معاذ علي زئي:

أبو ھمام عبد اللہ بن یسار: ذکرہ ابن حبان فی الثقات (7/ 224) واحتج بہ في صحیحہ (الإحسان: 2958) وقال البزار: ’’ما روی الفہري إلا ہذا،ولا رواہ إلا حماد. أصلہ في سنن أبي داود،ورجالہ ثقات‘‘ (مختصر زوائد مسند البزار: 1398) وروی لہ ضیاء المقدسي فی المختارۃ (2/ 319 ح 698،699) وقال الھیثمي في حدیثہ: ’’رواہ البزار،والطبراني،ورجالہما ثقات‘‘ (مجمع الزوائد: 10272) وقال البوصیري في حدیثہ: ’’ہذا إسناد صحيح‘‘ إتحاف الخیرۃ المھرۃ: 4616) وقال محمد بن یوسف الصالحي الشامي في حدیثہ : ’’برجال ثقات‘‘ (سبل الھدی: 5/ 323) وقال أبو داود السجستاني: ’’وھو حدیث نبیلٌ جاء بن حماد بن سلمۃ‘‘ (سنن أبي داود: 5233)

انوار الصحیفہ ص 181

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يَعْلَی بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي ہَمَّامٍ عَبْدِ اللہِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِہْرِيَّ قَالَ شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ حُنَيْنًا فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا زَالَتْ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَہُوَ فِي فُسْطَاطِہِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ قَدْ حَانَ الرَّوَاحُ قَالَ أَجَلْ ثُمَّ قَالَ يَا بِلَالُ قُمْ فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّہُ ظِلُّ طَائِرٍ فَقَالَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ فَقَالَ أَسْرِجْ لِي الْفَرَسَ فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاہُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيہِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو دَاوُد أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِہْرِيُّ لَيْسَ لَہُ إِلَّا ہَذَا الْحَدِيثُ وَہُوَ حَدِيثٌ نَبِيلٌ جَاءَ بِہِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ

سیدنا ابوعبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ہم انتہائی گرمی کے دن میں چلتے رہے پھر ایک درخت کے سائے تلے اترے۔جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہن گھوڑے پر سوار ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گیا۔آپ ﷺ اپنے خیمے میں تھے۔میں نے عرض کیا السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کوچ کا وقت ہو گیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! پھر فرمایا بلال! اٹھو تو وہ ایک کیکر کے درخت کے نیچے سے اچھل کر اٹھے اور ان کا سایہ ایسے پڑ رہا تھا جیسے کسی پرندے کا ہو۔(وہ بہت ہی نحیف جسم کے تھے) انہوں نے کہا: میں حاضر ہوں اور حاضر ہوں اور آپ پر فدا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا میرا گھوڑا تیار کرو۔(اس پر زین رکھو) چنانچہ اس نے ایسی زین نکالی جس کی گدیاں کھجور کی چھال سے بھری گئی تھیں۔ان میں کسی قسم کا تکبر اور بڑائی نہ تھی (انتہائی سادہ تھیں)۔چنانچہ آپ ﷺ سوار ہو گئے اور ہم بھی۔اور پوری حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبدالرحمٰن فہری سے یہی ایک حدیث مروی ہے اور یہ عمدہ حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے۔