Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3231 (سنن ابن ماجہ)

[3231] إسنادہ ضعیف

سائبۃ مولاۃ الفاکہ مجھولۃ الحال،لم یوثقھا من المتقدمین غیر ابن حبان و مع ذلک صحح البوصیري حدیثھا (!)

و لحدیثھا شاھد ضعیف عند النسائي (2834) و روی البخاري (3359) عن أم شریک رضي اللہ عنھا أن رسول اللہ ﷺ أمر بقتل الوزغ و قال: ((کان ینفخ علی إبراھیم علیہ السلام۔)) وھذا یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 492

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ،عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ،عَنْ نَافِعٍ،عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةِ الْفَاكِہِ بْنِ الْمُغِيرَةِ،أَنَّہَا دَخَلَتْ عَلَی عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِہَا رُمْحًا مَوْضُوعًا،فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعِينَ بِہَذَا؟ قَالَتْ: نَقْتُلُ بِہِ ہَذِہِ الْأَوْزَاغَ،فَإِنَّ نَبِيَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا: ((أَنَّ إِبْرَاہِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ،لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ،إِلَّا أَطْفَأَتِ النَّارَ،غَيْرَ الْوَزَغِ،فَإِنَّہَا كَانَتْ تَنْفُخُ عَلَيْہِ،فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِہِ))

حضرت فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی سائبہ رحمۃ اللہ علیہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کئیں تو ان کے گھر میں ایک نیزہ پڑا ہوا دیکھا۔انہوں نے کہا: ام المومنین! آپ اس (نیزے) کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہم اس کے ساتھ چھپکلیاں مارتے ہیں کیونکہ ہمیں اللہ کے نبیﷺ نے بتایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں جو بھی جانور تا اس نے آگ بجھائی،سوائے چھپکلی کے۔وہ تو (آگ تیز کرنے کے لیے) پھونکیں مارتی تھی،چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔