Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3834 (سنن ابن ماجہ)

[3834] إسنادہ ضعیف

یزید بن أبان الرقاشي ضعیف

وانظر ضعیف سنن الترمذي (2140)

انوار الصحیفہ ص 513، 514

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللہُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَی دِينِكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ تَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَصَدَّقْنَاكَ بِمَا جِئْتَ بِہِ فَقَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُہَا وَأَشَارَ الْأَعْمَشُ بِإِصْبَعَيْہِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہﷺ کثرت سے منع فرمایا کرتے تھے: [الہم ثبت قلبی علیٰ دینک] ’’اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں (گمراہ ہونے کا) خطرہ ہے؟حالانکہ ہم آپ پر ایمان لا چکے ہیں اور جو کچھ (ایمان و عمل کے احکام) آپ لائے ہیں،ان کو سچ مانتے ہیں۔نبیﷺ نے فرمایا: ’’دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں،وہ انہیں تبدیل کرتا رہتا ہے۔‘‘ امام اعمش رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔