Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3846 (سنن ابن ماجہ)

[3846]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَلَّمَہَا ہَذَا الدُّعَاءَ اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِہِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَہُ لِي خَيْرًا

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی: [اللّہم! إنی أَسأَلک۔۔۔۔خیرًا] ’’اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کی خیر مانگتا ہوں،جلدی ملنے والی اور دیر سے ملنے والی (یادنیا کی اور آخرت کی)،وہ بھی جس کا مجھ علم ہے اور وہ بھی جس کا مجھ علم نہیں۔اے اللہ! میں ہر قسم کےشر سے تیر پناہ میں آتا ہوں،جلدی آنے ولاے سے بھی،اور دیر سے آنے والے سے بھی (یا دنیا و آخرت کے شر سے)،جس کا مجھے علم ہے،اس سے بھی اور جس کا مجھے علم نہیں،اس سے بھی۔یااللہ! میں تجھ سے وہ خیر مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور تیرے نبی (محمدﷺ) نے مانگی ہے۔اور میں اس شر سے تیر پناہ میں آتا ہوں جس شرسے تیرے بندے اور تیرے نبی (محمدﷺ) نے مانگی ہے۔اور میں اس شر سے تیری پناہ یں آتا ہوں جس شر تیرے بندے اور تیرے نبی (محمدﷺ) نے پناہ مانگی ہے۔یا اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور ہر اس قول و عمل (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں جو اس سے قریب کرے۔اور میں(جہنم کی) آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور ہر اس قول و عمل سے پناہ مانگتا ہوں جو اس (جہنم) سے قریب کرے۔اور میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تو جو بھی فیصلہ کرے اسے میرے لیے بہتر (یاخیر کا باعث) بنا دے۔‘‘