Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3919 (مشکوۃ المصابیح)

[3919] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (2568) ٭ رجالہ ثقات ولکن سعید بن أبي ھند ’’لم یلق أبا ھریرۃ‘‘ قالہ أبو حاتم الرازي (انظر المراسیل ص 75) فالسند منقطع .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي ہِنْدٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((تَكُونُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِينِ وَبُيُوتٌ لِلشَّيَاطِينِ)) . فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِينِ فَقَدْ رَأَيْتُہَا: يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِنَجِيبَاتٍ مَعَہُ قَدْ أَسْمَنَہَا فَلَا يَعْلُو بَعِيرًا مِنْہَا وَيَمُرُّ بِأَخِيہِ قَدِ انْقَطَعَ بِہِ فَلَا يَحْمِلُہُ وَأَمَّا بُيُوتُ الشَّيَاطِينِ فَلَمْ أَرَہَا كَانَ سَعِيدٌ يَقُولُ: لَا أُرَاہَا إِلَّا ہَذِہِ الْأَقْفَاصَ الَّتِي يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيبَاجِ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ

سعید بن ابی ہند،ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کچھ اونٹ اور کچھ گھر شیطانوں کے لیے ہوتے ہیں شیطانوں کے اونٹ تو میں نے دیکھ لیے ہیں تم میں سے کوئی ایک اپنے بہترین اونٹوں کے ساتھ نکلتا ہے جنہیں اس نے خوب فربہ کیا ہوتا ہے،لیکن وہ ان میں سے کسی اونٹ پر نہیں بیٹھتا،اور وہ اپنے کسی (مسلمان) بھائی کے پاس سے گزرتا ہے جو کہ تھک چکا ہوتا ہے لیکن یہ اسے سوار نہیں کرتا،لیکن شیطانوں کے گھر میں نے نہیں دیکھے۔‘‘ سعید کہا کرتے تھے،میں سمجھتا ہوں کہ ان سے یہ ہودج مراد ہیں جنہیں لوگ دیباج ریشم سے ڈھانپتے ہیں۔اسنادہ ضعیف،رواہ ابوداؤد۔