Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4201 (مشکوۃ المصابیح)
[4201] إسنادہ ضعیف، رواہ البغوي في شرح السنۃ (275/11 ح 2824) [و الترمذي فی الشمائل (187)] ٭ حبیب بن أوس و ثقہ ابن حبان وحدہ و ابن لھیعۃ مدلس و عنعن .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن أبي أَيُّوب قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقُرِّبَ طَعَامٌ فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْہُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِہِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللہِ كَيْفَ ہَذَا؟ قَالَ: ((إِنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللہِ عَلَيْہِ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ اللہَ فَأَكَلَ مَعَہُ الشَّيْطَانُ)) . رَوَاہُ فِي شرح السّنة
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ کھانا پیش کیا گیا،میں نے کوئی کھانا نہیں ایسا دیکھا کہ ہم نے کھایا ہو اور اس کے شروع میں بہت زیادہ برکت ہو اور اس کے آخر میں بہت کم برکت ہو،ہم نے عرض کیا،اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’ جب ہم نے کھانا کھایا تو ہم نے اس پر اللہ کا نام لیا،پھر کوئی ایسا شخص بیٹھا جس نے اللہ کا نام نہیں لیا اس وجہ سے شیطان نے اس کے ساتھ کھایا (اس لیے برکت اٹھ گئی)۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ فی شرح السنہ۔