Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5791 (مشکوۃ المصابیح)

[5791] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (3638 وقال: لیس إسنادہ بمتصل) ٭ عمر بن عبد اللہ: ضعیف، و إبراہیم لم یدرک علیًا، انظر تحفۃ الاشراف (7/ 347)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَہَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْہِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَہْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَی يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَہُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَہْجَةً وَأَلْيَنُہُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُہُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآہُ بَدِيہَةً ہَابَہُ وَمَنْ خَالَطَہُ مَعْرِفَةً أَحَبَّہُ يَقُولُ نَاعِتُہُ: لَمْ أَرَ قَبْلَہُ وَلَا بَعْدَہُ مِثْلَہُ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم. رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

علی بن ابی طالب ؓ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوصاف بیان کرتے تو فرماتے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ لمبے تھے نہ زیادہ چھوٹے تھے بلکہ آپ درمیانہ قد تھے،آپ کے بال بالکل گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان تھے،آپ کا چہرہ مبارک بالکل گول نہیں تھا،بلکہ قدرے گولائی میں تھا،آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا،آنکھیں سیاہ،دراز پلکیں،جوڑوں کی ہڈیاں اٹھی ہوئی مضبوط تھیں،کندھوں کا درمیانی حصہ بھی بڑا اور مضبوط تھا،آپ کے بدن پر بال نہیں تھے،بس سینے اور ناف تک ایک لکیر تھی،ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے،جب آپ چلتے تو پاؤں اٹھا کر رکھتے گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں،جب آپ کسی کی طرف التفات فرماتے تو مکمل توجہ فرماتے،آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی،اور آپ خاتم النبیین ہیں،آپ سب سے بڑھ کر دل کے سخی تھے،سب سے زیادہ صاف گو تھے،سب سے زیادہ نرم مزاج تھے،قبیلے کے لحاظ سے سب سے زیادہ معزز تھے،جو آپ کو اچانک دیکھتا تو وہ ہیبت زدہ ہو جاتا،جو آپ کی صحبت اختیار کرتا اور واقفیت حاصل کر لیتا تو وہ آپ سے والہانہ محبت کرنے لگتا،اور آپ کے وصف بیان کرنے والا (آخر پر) یہ کہتا: میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسا آپ کی حیات مبارکہ میں کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔