Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5802 (مشکوۃ المصابیح)
[5802] رواہ مسلم (2310/54)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْہُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ: وَاللہِ لَا أَذْہَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْہَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَخَرَجْتُ حَتَّی أَمُرَّ عَلَی صِبْيَانٍ وَہُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا بِرَسُولِ اللہِ ﷺ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْہِ وَہُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: ((يَا أُنَيْسُ ذَہَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟)) . قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا أَذْہَبُ يَا رَسُول اللہ. رَوَاہُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے بہترین اخلاق کے حامل تھے،آپ نے ایک روز مجھے کسی کام کے لیے بھیجا تو میں نے کہا،اللہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا،جبکہ میرے دل میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کام کا مجھے حکم فرمایا ہے میں اس کے لیے ضرور جاؤں گا،میں نکلا،اور چند ایسے بچوں کے پاس سے گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے۔(میں وہاں کھڑا ہو گیا) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گدی پکڑ لی،وہ بیان کرتے ہیں،میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اُنیس! جہاں جانے کے متعلق میں نے تمہیں کہا تھا،کیا وہاں گئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں،اللہ کے رسول! میں جا رہا ہوں۔رواہ مسلم۔