Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5803 (مشکوۃ المصابیح)
[5803] متفق علیہ، رواہ البخاري (3149) و مسلم (128/ 1057)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْہُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَعَلَيْہِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَہُ أَعْرَابِيٌّ فجبذہ جَبْذَةً شَدِيدَةً وَرَجَعَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَدْ أثرت بِہِ حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِہِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللہِ الَّذِي عنْدك فَالْتَفَتَ إِلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ ثُمَّ ضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَہُ بِعَطَاءٍ. مُتَّفق عَلَيْہِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا،آپ پر موٹے کنارے (چوڑی پٹی) والی نجرانی چادر تھی،اتنے میں ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر کے ساتھ آپ کو اتنے زور سے کھینچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس اعرابی کے سینے کے قریب پہنچ گئے،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر دیکھا تو زور سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کے کنارے کے نشانات کندھے مبارک پر پڑ چکے تھے،پھر اس نے کہا: محمد! اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے میرے لیے بھی حکم فرمایئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا،اور ہنس دیے،پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا۔‘‘ متفق علیہ۔