Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5804 (مشکوۃ المصابیح)

[5804] متفق علیہ، رواہ البخاري (6033) و مسلم (48/ 2307)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَہْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَہُمُ النَّبِيُّ ﷺ قَدْ سَبَقَ النَّاس إِلَی الصَّوْت ہُوَ يَقُولُ: ((لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا)) وَہُوَ عَلَی فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْہِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِہِ سَيْفٌ. فَقَالَ: ((لَقَدْ وَجَدْتُہُ بَحْرًا)) . مُتَّفق عَلَيْہِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے زیادہ حسین،سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے،ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے تو لوگ اس کی آواز کی طرف چل پڑے،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے پہلے اس کی آواز کی طرف گئے تھے اور واپسی پر آپ لوگوں سے ملے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’گھبراؤ نہیں،گھبراؤ نہیں۔‘‘ آپ اس وقت ابو طلحہ ؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے،اس پر زین نہیں تھی اور آپ کے گلے میں تلوار تھی۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میں نے اس (گھوڑے) کو نہایت تیز رفتار پایا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔