Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5807 (مشکوۃ المصابیح)

[5807] رواہ البخاري (2821)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ بَيْنَمَا ہُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ مَقْفَلَہُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَتِ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَہُ حَتَّی اضْطَرُّوہُ إِلَی سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَہُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: ((أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدَ ہَذِہِ الْعِضَاہِ نَعَمٌ لَقَسَمْتُہُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كذوباً وَلَا جَبَانًا)) . رَوَاہُ البُخَارِيّ

جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے،اس اثنا میں کہ غزوۂ حنین سے واپسی پر وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے،(راستے میں) اعرابی چمٹ کر آپ سے سوال کرنے لگے،حتی کہ انہوں نے آپ کو ببول کے درخت کی طرف دھکیل دیا،وہ (کانٹے) آپ کی چادر سے الجھ گئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا:’’میری چادر مجھے دے دو،اگر میرے پاس ان (کانٹے دار) درختوں جتنے اونٹ ہوتے تو میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا،لہذا تم مجھے بخیل پاؤ گے نہ جھوٹا اور نہ بزدل۔‘‘ رواہ البخاری۔