Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5819 (مشکوۃ المصابیح)

[5819] صحیح، ذکرہ البغوي فی المصابیح السنۃ (57/4۔ 58 ح 4538) و رواھ البیھقي في شعب الإیمان (8070 و کتاب القدر: 212 وسندہ صحیح) و لہ شواھد عند أحمد (3/ 231 و ابن سعد (7/ 17) و البخاري (2768، 6038، 6911) و مسلم (2309) و الخطیب في تاریخ بغداد (3/ 303) و ابن حبان (الموارد: 1816) وغیرھم . ٭ ورواہ الخرائطي في مکارم الأخلاق (71)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ خَدَمْتُہُ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا لَامَنِي عَلَی شَيْءٍ قَطُّ أَتَی فِيہِ عَلَی يَدَيَّ فَإِنْ لَامَنِي لَائِمٌ مِنْ أَہْلِہِ قَالَ: ((دَعُوہُ فَإِنَّہُ لَوْ قُضِيَ شَيْءٌ كَانَ)) . ہَذَا لَفَظُ ((الْمَصَابِيحِ)) وَرَوَی الْبَيْہَقِيُّ فِي ((شُعَبِ الْإِيمَانِ)) . مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ

انس ؓ بیان کرتے ہیں،میں آٹھ برس کی عمر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کے لیے حاضر ہوا اور دس سال آپ کی خدمت کی،آپ نے اس عرصے میں میرے ہاتھوں ہونے والے کسی نقصان پر مجھے ملامت نہیں کی،اگر آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی مجھے ملامت کرتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے:’’اسے چھوڑ دو،کیونکہ جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔‘‘ یہ الفاظِ حدیث مصابیح کے ہیں،اور امام بیہقی نے کچھ تبدیلی کے ساتھ شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔صحیح،رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان۔