Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4746 (سنن النسائي)

[4746]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ،قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،عَنْ ہَمَّامٍ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْہَا أَوْضَاحٌ،فَأَخَذَہَا يَہُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَہَا،وَأَخَذَ مَا عَلَيْہَا مِنَ الْحُلِيِّ،فَأُدْرِكَتْ وَبِہَا رَمَقٌ،فَأُتِيَ بِہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ؟)) قَالَتْ بِرَأْسِہَا: لَا. قَالَ: ((فُلَانٌ؟)) قَالَ: حَتَّی سَمَّی الْيَہُودِيَّ،قَالَتْ بِرَأْسِہَا: نَعَمْ. فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُہُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: ایک لڑکی گھر سے نکلی۔اس کے کانوں میں بالیاں تھیں۔ایک یہودی نے اسے پکڑ لیا اس کا سر کچلا اور زیورات اتار کر لے گیا۔جب اس لڑکی کو دیکھا گیا تو اس میں کچھ جان باقی تھی۔اسے رسول اللہﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس سے پوچھا: ’’تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں نے؟‘‘ اس نے سر سے اشارہ کیا،نہیں۔فرمایا: ’’فلاں نے؟‘‘ حتیٰ کہ آپ نے اس یہودی کا نام لیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہا۔اس یہودی کو پکڑ کر لیا گیا۔آخر اس نے تسلیم کرلیا تو رسول اللہﷺ نے حکم دیا اور اس کا سر بھی اسی طرح دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔