Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4748 (سنن النسائي)

[4748]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ،عَنْ الشَّعْبِيِّ،قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ يَقُولُ: سَأَلْنَا عَلِيًّا فَقُلْنَا: ہَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَی الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: ((لَا،وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ،إِلَّا أَنْ يُعْطِيَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فَہْمًا فِي كِتَابِہِ أَوْ مَا فِي ہَذِہِ الصَّحِيفَةِ)) قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: ((فِيہَا الْعَقْلُ،وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ،وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ))

حضرت ابوجحیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی جانب سے قرآن مجید کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ کر انگوری نکالی اور روح کو پیدا فرمایا! نہیں،مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا فرمائے۔(اس میں فرق ہو سکتا ہے) یا پھر اس تحریر میں کچھ باتیں ہیں۔میں نے کہا: اس تحریر میں کیا لکھا ہے؟ انھوں نے فرمایا: اس میں دیت کے مسائل ہیں۔قیدی کو چھڑانے کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔