Sunan Al-Nasai Hadith 4749 (سنن النسائي)
[4749]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا عَہِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ،إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي،فَلَمْ يَزَالُوا بِہِ حَتَّی أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ،فَإِذَا فِيہَا: ((الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُہُمْ يَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ،وَہُمْ يَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ،لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ،وَلَا ذُو عَہْدٍ فِي عَہْدِہِ))
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے عام لوگوں کے علاوہ مجھے کوئی خصوصی وصیت نہیں فرمائی مگر میری تلوار کی میان میں ایک تحریر ہے۔لوگ آپ سے اصرار کرتے رہے (کہ آپ وہ تحریر دکھائیں) حتی کہ آپ نے وہ تحریر نکالی۔اس میں لکھا تھا: ’’تمام اہل ایمان کے خون برابر حیثیت رکھتے ہیں۔ایک عام مومن بھی کسی شخص کو تمام مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح یکجان ہیں۔کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا اور کسی ذمی کو اس کے ذمی ہوتے ہوئے قتل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘