Sunan Al-Nasai Hadith 4759 (سنن النسائي)
[4759]صحیح
صحیح مسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ،قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ،عَنْ أَنَسٍ،أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا،فَاخْتَصَمُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ)) فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ: يَا رَسُولَ اللہِ،أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ؟ لَا وَاللہِ لَا يُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((سُبْحَانَ اللہِ،يَا أُمَّ الرَّبِيعِ،الْقِصَاصُ كِتَابُ اللہِ)) قَالَتْ: لَا وَاللہِ لَا يُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا،فَمَا زَالَتْ حَتَّی قَبِلُوا الدِّيَةَ قَالَ: ((إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَأَبَرَّہُ))
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کر دیا۔وہ یہ مقدمہ نبیﷺ کی خدمت میں لے گئے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’قصاص دینا ہوگا۔‘‘ ربیع کی والدہ کہنے لگیں: رسول اللہﷺ! کیا ام حارثہ سے قصاص لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’سبحان اللہ! ام ربیع! قصاص تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔‘‘ وہ کہنے لگیں،اللہ کی قسم! نہیں۔اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔وہ اسی طرح کہتی رہیں حتیٰ کہ فریق ثانی نے دیت قبول کر لی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ انھیں سچا کر دیتا ہے۔‘‘