Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4761 (سنن النسائي)

[4761]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ،قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ،عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ،فَطَلَبُوا إِلَيْہِمُ الْعَفْوَ،فَأَبَوْا،فَعُرِضَ عَلَيْہِمُ الْأَرْشُ،فَأَبَوْا،فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ،قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللہِ،تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ. قَالَ: يَا أَنَسُ،كِتَابُ اللہِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ الْقَوْمُ،وَعَفَوْا. فَقَالَ: ((إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَأَبَرَّہُ))

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: (میری پھوپھی) حضرت ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کا سامنے والا دانت توڑ دیا۔ان کے رشتہ داروں نے لڑکی کے رشتہ داروں سے معافی مانگی۔انھوں نے انکار کر دیا۔انھیں دیت کی پیش کش کی گئی تو انھوں نے پھر انکار کر دیا۔پھر وہ نبی اکرمﷺ کے پاس آگئے۔آپ نے قصاص کا حکم جاری فرما دیا۔حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں،قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا! ہرگز نہیں توڑا جائے گا۔آپ نے فرمایا: ’’انس! اللہ تعالیٰ کی کتاب تو قصاص کا حکم دیتی ہے۔‘‘ اتنے میں فریق ثانی راضی ہوگیا اور انھوں نے معافی دے دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی لاج رکھ لیتا ہے۔‘‘