Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 871 (سنن النسائي)

[871] إسنادہ ضعیف

ترمذی (3122) ابن ماجہ (1046)

انوار الصحیفہ ص 327

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ ابْنِ مَالِكٍ وَہُوَ عَمْرٌو عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاہَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُہُمْ حَتَّی يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِہِ فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ(الحجر 24)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بہت خوب صورت عورت رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی۔کچھ (نیک) لوگ قصداً پہلی صف میں کھڑے ہوتے تھے تاکہ وہ نظر نہ آئے۔اور کچھ (منافق قسم کے) لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہتے تھے حتی کہ آخری صف میں کھڑے ہوتے (تاکہ اسے دیکھیں)۔پھر جب رکوع کرتے تو بغل کے نیچے سے اسے دیکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: (ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین) ’’ہم خوب جانتے ہیں تم میں سے آگے رہنے والوں کو اور خوب جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو۔‘‘