Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 940 (سنن النسائي)

[940]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاہُ جِبْرِيلُ عَلَيْہِ السَّلَام فَقَالَ إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ قَالَ أَسْأَلُ اللہَ مُعَافَاتَہُ وَمَغْفِرَتَہُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفَيْنِ قَالَ أَسْأَلُ اللہَ مُعَافَاتَہُ وَمَغْفِرَتَہُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَہُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَی ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ أَسْأَلُ اللہَ مُعَافَاتَہُ وَمَغْفِرَتَہُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَہُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْہِ فَقَدْ أَصَابُوا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ ہَذَا الْحَدِيثُ خُولِفَ فِيہِ الْحَكَمُ خَالَفَہُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ رَوَاہُ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺ بنو غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: اللہ عزوجل آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن مجید ایک حرف میں پڑھائیں۔آپ نے فرمایا: ’’میں اللہ تعالیٰ سے معافی اور بخشش کا طلب گار ہوں۔(یعنی اس سلسلے میں رعایت مطلوب ہے) کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔‘‘ پھر جبریل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن مجید دو حروف میں پڑھائیں۔آپ نے فرمایا: ’’میں اللہ تعالیٰ سے اس کی عافیت اور بخشش کا طلب گار ہوں،میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔‘‘ پھر وہ تیسری دفعہ آپ کے پاس آئے اور کہا: ’’اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن مجید تین حروف میں پڑھائیں۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں اللہ تعالیٰ سے اس کی عافیت اور مغفرت کا خواستگار ہوں،میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی؎‘‘ پھر وہ چوتھی دفعہ آپ کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن مجید سات حروف میں پڑھائیں۔وہ قرآن مجید کو ان میں سے جس حرف میں پڑھ لیں،درست ہے۔ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث (کی سند کے بیان) میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے۔منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے۔انھوں نے اس روایت کو عن مجاہد عنی عبید بن عمیر مرسل بیان کیا ہے۔