Jamia al-Tirmidhi Hadith 2280 (سنن الترمذي)
[2280]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللہِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ فَرُؤْيَا حَقٌّ وَرُؤْيَا يُحَدِّثُ بِہَا الرَّجُلُ نَفْسَہُ وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فَمَنْ رَأَی مَا يَكْرَہُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَكَانَ يَقُولُ يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَہُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ رَآنِي فَإِنِّي أَنَا ہُوَ فَإِنَّہُ لَيْسَ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِي وَكَانَ يَقُولُ لَا تُقَصُّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَی عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَأَبِي بَكْرَةَ وَأُمِّ الْعَلَاءِ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ وَأَبِي مُوسَی وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں،ایک خواب وہ ہے جوسچاہوتاہے،ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جوکچھ سوچتارہتا ہے،اسی کو خواب میں دیکھتا ہے،اورایک خواب ایساہے جوشیطان کی طرف سے ہوتا ہے اورغم وصدمہ کاسبب ہوتا ہے،لہذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اٹھ کر صلاۃ پڑھے،آپﷺ کہا کرتے تھے: مجھے خواب میں بیڑی کادیکھنااچھالگتاہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسندکرتاہوں،بیڑی کی تعبیردین پر ثابت قدمی (جمے رہنا) ہے،آپﷺ کہاکرتے تھے: جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں،اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپناسکتا ہے ،آپ ﷺفرمایا کرتے تھے: خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں انس،ابوبکرہ،ام العلاء،ابن عمر،عائشہ،ابوموسیٰ،جابر،ابوسعیدخدری،ابن عباس اورعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔