Jamia al-Tirmidhi Hadith 2299 (سنن الترمذي)
[2299] إسنادہ ضعیف
فاتک: مجہول الحال (تقریب: 5371) وانظر الحدیث الآتي (3300)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّہَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَہَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللہِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ وَاخْتَلَفُوا فِي رِوَايَةِ ہَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ وَلَا نَعْرِفُ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ سَمَاعًا مِنْ النَّبِيِّ ﷺ
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوے اورفرمایا: لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابرہے،پھر آپﷺ نے یہ آیت پڑھی فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (الحج: ۳۰) توبتوں کی گندگی سے بچے رہو (ان کی پرستش نہ کرو) اورجھوٹ بولنے سے بچے رہو۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے،۲-ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔اورلوگوں نے سفیان بن زیادسے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے،۳-نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرمﷺ سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔