Jamia al-Tirmidhi Hadith 2301 (سنن الترمذي)
[2301]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ،عَنْ الجُرَيْرِيِّ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ،عَنْ أَبِيہِ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ))؟ قَالُوا: بَلَی يَا رَسُولَ اللہِ،قَالَ: ((الإِشْرَاكُ بِاللہِ،وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ،وَشَہَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ)) قَالَ: ((فَمَا زَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَقُولُہَا حَتَّی قُلْنَا لَيْتَہُ سَكَتَ)): ((ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)) وَفِي البَاب عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیاتمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ صحابہ نے عر ض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا،ماں باپ کی نافرمانی کرنااورجھوٹی گواہی دینا یاجھوٹی بات بولنا،ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہوجاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی حدیث آئی ہے۔