Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2303 (سنن الترمذي)

[2303]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي،ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَہُمْ،ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَہُمْ،ثُمَّ يَفْشُو الكَذِبُ حَتَّی يَشْہَدَ الرَّجُلُ وَلَا يُسْتَشْہَدُ،وَيَحْلِفَ الرَّجُلُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ)) وَمَعْنَی حَدِيثِ النَّبِيِّ ﷺ: خَيْرُ الشُّہَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَہَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَہَا،ہُوَ عِنْدَنَا إِذَا أُشْہِدَ الرَّجُلُ عَلَی الشَّيْءِ أَنْ يُؤَدِّيَ شَہَادَتَہُ وَلَا يَمْتَنِعَ مِنَ الشَّہَادَةِ،ہَكَذَا وَجْہُ الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ العِلْمِ

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے اچھے اوربہترلوگ ہمارے زمانے والے ہیں،پھروہ لوگ جوان کے بعدہوں گے،پھروہ لوگ جو ان کے بعدہوں گے،پھرجھوٹ عام ہوجائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیرگواہی دے گا،اورقسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا۔ اورنبی اکرمﷺ کی وہ حدیث کہ سب سے بہترگواہ وہ ہے،جوگواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تواس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی(حق بات کی خاطر) دلوائی جائے تووہ گواہی دے،گواہی دینے سے بازنہ رہے،بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔