Jamia al-Tirmidhi Hadith 2306 (سنن الترمذي)
[2306] إسنادہ ضعیف جدًا
محرر بن ہارون: متروک (تقریب: 6499) وقال الھیثمي: وقد ضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 272)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ،عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ ہَارُونَ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: ((بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سَبْعًا ہَلْ تُنْظَرُونَ إِلَّا إِلَی فَقْرٍ مُنْسٍ،أَوْ غِنًی مُطْغٍ،أَوْ مَرَضٍ مُفْسِدٍ،أَوْ ہَرَمٍ مُفَنِّدٍ،أَوْ مَوْتٍ مُجْہِزٍ،أَوِ الدَّجَّالِ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ،أَوِ السَّاعَةِ فَالسَّاعَةُ أَدْہَی وَأَمَرُّ)) ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ الأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَرَّرِ بْنِ ہَارُونَ وَقَدْ رَوَی بِشْرُ بْنُ عُمَرَ،وَغَيْرُہُ عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ ہَارُونَ،ہَذَا وَقَدْ رَوَی مَعْمَرٌ،ہَذَا الحَدِيثَ عَمَّنْ،سَمِعَ سَعِيدًا المَقْبُرِيَّ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ وَقَالَ: ((تَنْتَظِرُونَ))
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو،تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والاہے؟ یا ایسی مالداری کا جوطغیانی پیداکرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے(یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جوعقل کو کھودینے والا ہے؟ یاایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-اعرج ابوہریرہ سے مروی حدیث ہم صرف محرزبن ہارون کی روایت سے جانتے ہیں،۳-بشربن عمراور ان کے علاوہ لوگوں نے بھی اسے محرزبن ہارون سے روایت کیا ہے،۴-معمرنے ایک ایسے شخص سے سناہے جس نے بسند سعید مقبری عن ابی ہریرہ عن النبی ﷺ اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں ہل تنتظرون کی بجائے تنتظرونہے۔