Jamia al-Tirmidhi Hadith 2506 (سنن الترمذي)
[2506] إسنادہ ضعیف
القاسم بن أمیۃ و یقال أمیۃ بن القاسم وثقہ جماعۃ و ضعفہ جماعۃ و کان یروي عن حفص بن غیاث مناکیر،کما قال ابن حبان و أقرہ ابن الجوزي فی الضعفاء والمتروکین (3/ 13 ت 2741)
و ھذا جرح خاص مقدم و قول مکحول: ’’ندانم‘‘ سندہ حسن۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ الْہَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ح قَالَ و أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَذَّاءُ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا تُظْہِرْ الشَّمَاتَةَ لِأَخِيكَ فَيَرْحَمَہُ اللہُ وَيَبْتَلِيكَ قَالَ ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَمَكْحُولٌ قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي ہِنْدٍ الدَّارِيِّ وَيُقَالُ إِنَّہُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ إِلَّا مِنْ ہَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ وَمَكْحُولٌ شَامِيٌّ يُكْنَی أَبَا عَبْدِ اللہِ وَكَانَ عَبْدًا فَأُعْتِقَ وَمَكْحُولٌ الْأَزْدِيُّ بَصْرِيٌّ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ يَرْوِي عَنْہُ عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ مَكْحُولًا يُسْئِلُ فَيَقُولُ نَدَانَمْ
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعداء نہ کرو،ہوسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اورتمہیں آزمائش میں ڈال دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-مکحول کا سماع واثلہ بن اسقع،انس بن مالک اور ابوھند داری سے ثابت ہے،اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کا سماع ان تینوں صحابہ کے علاوہ کسی سے ثابت نہیں ہے،۳-یہ مکحول شامی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے،یہ ایک غلام تھے بعد میں انہیں آزاد کردیاگیا تھا،۴-اور ایک مکحول ازدی بصری بھی ہیں ان کا سماع عبداللہ بن عمر سے ثابت ہے ان سے عمارہ بن زاذان روایت کرتے ہیں۔اس سند سے مکحول شامی کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ ندانم (میں نہیں جانتا) کہتے تھے۔