Jamia al-Tirmidhi Hadith 2509 (سنن الترمذي)
[2509] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (4919)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَی قَالَ صَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّ فَسَادَ ذَاتِ الْبَيْنِ ہِيَ الْحَالِقَةُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَی عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ ہِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعَرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتادوں جودرجہ میں صلاۃ،صوم اور صدقہ سے بھی افضل ہے،صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ ضرور بتایئے،آپ نے فرمایا: وہ آپس میں میل جول کرادینا ہے ۱؎ اس لیے کہ آپس کی پھوٹ دین کو مونڈنے والی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہی چیز مونڈنے والی ہے۔میں یہ نہیں کہہ رہاہوں کہ سرکا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین کو مونڈ نے والی ہے۔