Jamia al-Tirmidhi Hadith 2517 (سنن الترمذي)
[2517]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ السَّدُوسِيُّ قَال سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ أَعْقِلُہَا وَأَتَوَكَّلُ أَوْ أُطْلِقُہَا وَأَتَوَكَّلُ قَالَ اعْقِلْہَا وَتَوَكَّلْ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ يَحْيَی وَہَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُنْكَرٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ ہَذَا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پرتوکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے باندھ دو،پھر توکل کرو۔ عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان نے کہاکہ ہمارے نزدیک یہ حدیث منکر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث انس کی روایت سے غریب ہے،اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ ۲-اسی طرح سے یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔