Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2583 (سنن الترمذي)

[2583]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (5680)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِہِ وَيُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُہُ قَالَ يُقَرَّبُ إِلَی فِيہِ فَيَكْرَہُہُ فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْہُ شَوَی وَجْہَہُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِہِ فَإِذَا شَرِبَہُ قَطَّعَ أَمْعَاءَہُ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ دُبُرِہِ يَقُولُ اللہُ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَہُمْ وَيَقُولُ وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُہْلِ يَشْوِي الْوُجُوہَ بِئْسَ الشَّرَابُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَہَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ وَلَا نَعْرِفُ عُبَيْدَ اللہِ بْنَ بُسْرٍ إِلَّا فِي ہَذَا الْحَدِيثِ وَقَدْ رَوَی صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ ﷺ غَيْرَ ہَذَا الْحَدِيثِ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ بُسْرٍ لَہُ أَخٌ قَدْ سَمِعَ مِنْ النَّبِيِّ ﷺ وَأُخْتُہُ قَدْ سَمِعَتْ مِنْ النَّبِيِّ ﷺ وَعُبَيْدُ اللہِ بْنُ بُسْرٍ الَّذِي رَوَی عَنْہُ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ہَذَا الْحَدِيثَ رَجُلٌ آخَرُ لَيْسَ بِصَاحِبٍ

ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول وَیُسْقَی مِنْ مَائٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہُ (ابراہیم:۱۶) کے بارے میں فرمایا: صدید(پیپ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَسُقُوا مَائً حَمِیمًا فَقَطَّعَ أَمْعَائَہُمْ (سورۃ محمد:۱۵) (وہ ماء حمیم(گرم پانی) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا) اورا للہ تعالیٰ فرماتاہے وَإِنْ یَسْتَغِیثُوا یُغَاثُوا بِمَائٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوہَ بِئْسَ الشَّرَابُ (الکہف: ۲۹) (اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہوگا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برامشروب ہے) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے،۲-اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں عن عبید اللہ بن بسر کہاہے اور ہم عبید اللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں،۳-صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جونبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں،ایک دوسری حدیث روایت کی ہے،عبدا للہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم ﷺ سے حدیث سنی ہے۔جس عبید اللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے،یہ صحابی نہیں ہیں کوئی دوسرے آدمی ہیں۔