Sunan Abi Dawood Hadith 1007 (سنن أبي داود)
[1007] إسنادہ ضعیف
قال الذھبي:’’المنھال ضعفہ ابن معین،وأشعث فیہ لین والحدیث منکر‘‘ (تلخیص المستدرک 270/1)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَةَ،حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ،قَالَ: صَلَّی بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَی أَبَا رِمْثَةَ،فَقَالَ: صَلَّيْتُ ہَذِہِ الصَّلَاةَ-أَوْ مِثْلَ ہَذِہِ الصَّلَاةِ-مَعَ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِہِ،وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَہِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَی مِنَ الصَّلَاةِ،فَصَلَّی نَبِيُّ اللہِ ﷺ،ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِہِ،وَعَنْ يَسَارِہِ،حَتَّی رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْہِ،ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ-يَعْنِي: نَفْسَہُ-،فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَہُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَی مِنَ الصَّلَاةِ،يَشْفَعُ،فَوَثَبَ إِلَيْہِ عُمَرُ،فَأَخَذَ بِمَنْكِبِہِ فَہَزَّہُ،ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ, فَإِنَّہُ لَمْ يُہْلِكْ أَہْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّہُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِہِمْ فَصْلٌ،فَرَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ بَصَرَہُ،فَقَالَ: أَصَابَ اللہُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟. قَالَ أَبو دَاود: وَقَدْ قِيلَ أَبُو أُمَيَّةَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ.
جناب ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے امام نے جن کا نام ابورمثہ تھا،نماز پڑھائی۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نماز یا اسی طرح کی کوئی اور نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھی،اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما صف اول میں آپ ﷺ کی دائیں جانب کھڑے تھے۔وہاں ایک اور آدمی بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں پہنچا تھا۔نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی پھر اپنی دائیں بائیں جانب سلام پھیرا،حتیٰ کہ ہم نے آپ ﷺ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی۔پھر وہاں سے پھرے جیسے کہ میں پھرا ہوں۔تو وہ آدمی جو تکبیر اولیٰ میں شامل ہوا تھا،نفل پڑھنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے اس کی طرف اٹھے اور اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجوڑا اور کہا: بیٹھ جاؤ،اہل کتاب کی ہلاکت کا باعث یہی تھا کہ ان کی نمازوں میں کوئی فرق فاصلہ نہ ہوتا تھا۔تو نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور فرمایا ’’اے ابن خطاب! اللہ نے تمہیں صحیح بات کہنے کی توفیق دی ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام کا نام ابورمثہ کی بجائے ابو امیہ بھی بیان کیا گیا ہے۔