Sunan Abi Dawood Hadith 1008 (سنن أبي داود)
[1008]صحیح
صحیح مسلم (573)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ مُحَمَّدٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ إِحْدَی صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ, الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ،قَالَ: فَصَلَّی بِنَا رَكْعَتَيْنِ،ثُمَّ سَلَّمَ،ثُمَّ قَامَ إِلَی خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ،فَوَضَعَ يَدَيْہِ عَلَيْہِمَا،إِحْدَاہُمَا عَلَی الْأُخْرَی, يُعْرَفُ فِي وَجْہِہِ الْغَضَبُ،ثُمَّ خَرَجَ سَرْعَانُ النَّاسِ،وَہُمْ يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ،قُصِرَتِ الصَّلَاةُ،وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ،فَہَابَاہُ أَنْ يُكَلِّمَاہُ،فَقَامَ رَجُلٌ-كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُسَمِّيہِ: ذَا الْيَدَيْنِ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاة ُ،قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللہِ! فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی الْقَوْمِ،فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ فَأَوْمَئُوا: أَيْ: نَعَمْ،فَرَجَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی مَقَامِہِ،فَصَلَّی الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ،ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ،وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ،أَوْ أَطْوَلَ،ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ،ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ،ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ. قَالَ: فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: سَلَّمَ فِي السَّہْوِ؟ فَقَالَ: لَمْ أَحْفَظْہُ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو پچھلے پہر کی ایک نماز پڑھائی ظہر یا عصر۔آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔پھر آپ ﷺ مسجد کے سامنے ایک لکڑی کے پاس کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ لیے۔آپ ﷺ کا ایک ہاتھ دوسرے کے اوپر تھا۔اور آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار نمایاں تھے۔پھر جلد باز لوگ (مسجد سے) نکل آئے اور وہ کہہ رہے تھے: نماز کم کر دی گئی! نماز کم کر دی گئی! لوگوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے،مگر ہیبت کے باعث وہ آپ ﷺ سے بات نہ کر رہے تھے،تو ایک آدمی کھڑا ہوا،رسول اللہ ﷺ اسے ذوالیدین (ہاتھوں والا) کہا کرتے تھے۔وہ کہنے لگا: اے اﷲ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں بھولا ہوں نہ نماز کم کی گئی ہے۔‘‘ کہنے لگا: بلکہ آپ بھول گئے ہیں۔اے اﷲ کے رسول! تب رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا ’’کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟‘‘ انہوں نے اشارہ کیا کہ ہاں۔تب رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ پر تشریف لائے اور بقیہ دو رکعتیں پڑھائیں،پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا،پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور سجدہ کیا اپنے سجدے کی مانند یا اس سے کچھ لمبا۔پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی اور (دوسرا) سجدہ کیا اپنے (پہلے) سجدے کی مانند یا اس سے کچھ لمبا۔پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔محمد بن سیرین سے کہا گیا: کیا آپ نے سجدہ سہو کے بعد سلام پھیرا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یاد نہیں ہے،مگر مجھے بتایا گیا ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ پھر آپ نے سلام پھیرا۔