Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1009 (سنن أبي داود)

[1009]صحیح

صحیح بخاری (714)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ مُحَمَّدٍ بِإِسْنَادِہِ وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ،لَمْ يَقُلْ: بِنَا،وَلَمْ يَقُلْ: فَأَوْمَئُوا،قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ،قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ،وَلَمْ يَقُلْ: وَكَبَّرَ،ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ،ثُمَّ رَفَعَ... وَتَمَّ حَدِيثُہُ لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَہُ وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ أَبو دَاود: وَكُلُّ مَنْ رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ فَكَبَّرَ وَلَا ذَكَرَ رَجَعَ.

محمد (محمد بن سیرین) سے روایت ہے اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے۔انہوں نے (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) بیان کیا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی۔یہ نہیں کہا کہ ہمیں نماز پڑھائی۔اور نہ یہ کہا کہ لوگوں نے اشارہ کیا۔بلکہ کہا کہ لوگوں نے کہا: ہاں۔(یعنی آپ بھول گئے ہیں)۔پھر بیان کیا کہ آپ نے سر اٹھایا۔مگر تکبیر کا ذکر نہیں کیا۔پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا اپنے پہلے سجدے کی مانند یا اس سے کچھ لمبا،پھر سر اٹھایا۔(یعنی یہاں بھی تکبیر کا ذکر نہیں) اور یہاں تک اس کی روایت پوری ہو گئی ہے۔اور اس کے بعد آخر تک کے الفاظ بھی بیان نہیں کیے۔اور ((فأومئوا)) ’’لوگوں نے اشارہ کیا‘‘ کا لفظ سوائے حماد بن زید کے کسی اور نے ذکر نہیں کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے بھی یہ روایت ذکر کی ہے اس نے آپ ﷺ کی تکبیر اور آپ کے لوٹ آنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔