Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1010 (سنن أبي داود)

[1010]إسنادہ صحیح

صححہ ابن خزیمۃ (1035)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ،حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ،عَنْ مُحَمَّدٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ... بِمَعْنَی حَمَّادٍ كُلِّہِ،إِلَی آخِرِ قَوْلِہِ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ،قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ. قَالَ: قُلْتُ: فَالتَّشَہُّدُ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَہُّدِ،وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَہَّدَ،وَلَمْ يَذْكُرْ: كَانَ يُسَمِّيہِ ذَا الْيَدَيْنِ،وَلَا ذَكَرَ: فَأَوْمَئُوا،وَلَا ذَكَرَ الْغَضَبَ. وَحَدِيثُ حَمَّادٍ،عَنْ أَيُّوبَ أَتَمُّ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی،آخر تک روایت حماد کی مانند کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر آپ نے سلام پھیرا،(سلمہ نے) کہا: میں نے پوچھا: اور تشہد؟ انہوں نے کہا: تشہد کے بارے میں میں نے کچھ نہیں سنا،مگر مجھے تشہد پڑھنا زیادہ پسند ہے۔(سلمہ نے یہ) ذکر نہیں کیا کہ آپ ﷺ اس شخص کو ذوالیدین کہا کرتے تھے،اور نہ لوگوں کے اشارے اور رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا ذکر کیا۔اور حماد کی حدیث زیادہ کامل ہے جو ایوب سے مروی ہے۔