Sunan Abi Dawood Hadith 1018 (سنن أبي داود)
[1018]صحیح
صحیح مسلم (574)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح و حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنْ الْعَصْرِ ثُمَّ دَخَلَ قَالَ عَنْ مَسْلَمَةَ الْحُجَرَ فَقَامَ إِلَيْہِ رَجُلٌ يُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ كَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ فَقَالَ لَہُ أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللہِ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَہُ فَقَالَ أَصَدَقَ قَالُوا نَعَمْ فَصَلَّی تِلْكَ الرَّكْعَةَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْہَا ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز میں تین رکعات پر سلام پھیر دیا۔پھر آپ ﷺ اپنے حجرات میں تشریف لے گئے ‘ تو ایک آدمی جس کا نام خرباق تھا آپ کی طرف گیا اور یہ لمبے ہاتھوں والا تھا ‘ کہنے لگا: اے اﷲ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ تو آپ غصے میں چادر گھسٹیتے ہوئے باہر تشریف لائے اور کہا: ’’کیا یہ سچ کہتا ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ہاں! تب آپ نے وہ رکعت پڑھائی ‘ پھر سلام پھیرا ‘ پھر دو سجدے کیے ‘ پھر سلام پھیرا۔