Sunan Abi Dawood Hadith 1020 (سنن أبي داود)
[1020]صحیح
صحیح بخاری (401) صحیح مسلم (572)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ،قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ،صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ،-قَالَ إِبْرَاہِيمُ:-فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ! فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَہُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟،قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا،فَثَنَی رِجْلَہُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ،فَسَجَدَ بِہِمْ سَجْدَتَيْنِ،ثُمَّ سَلَّمَ،فَلَمَّا انْفَتَلَ, أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْہِہِ-ﷺ-،فَقَالَ: إِنَّہُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِہِ،وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی كَمَا تَنْسَوْنَ،فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي،وَقَال:َ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِہِ, فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ،فَلْيُتِمَّ عَلَيْہِ،ثُمَّ لِيُسَلِّمْ،ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی ‘ ابراہیم نے کہا معلوم نہیں اس میں کوئی کمی کر دی یا بیشی۔جب سلام پھیرا تو آپ ﷺ سے کہا گیا: اے اﷲ کے رسول! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا ہوا؟‘‘ کہنے لگے کہ آپ نے ایسے ایسے نماز پڑھائی ہے۔تو آپ ﷺ نے اپنا پاؤں موڑا ‘ قبلہ رخ ہوئے اور انہیں دو سجدے کرائے ‘ پھر سلام پھیرا۔جب پھرے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’بلاشبہ اگر نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آتا تو میں تمہیں بتلا دیتا ‘ لیکن میں بشر ہوں ‘ ویسے ہی بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو۔جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو۔‘‘ اور فرمایا ’’جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو چاہیئے کہ غور کرے کہ ٹھیک کیا ہے اور اسی پر اپنی نماز کو مکمل کرے ‘ پھر سلام پھیرے پھر دو سجدے کرے۔‘‘