Sunan Abi Dawood Hadith 1022 (سنن أبي داود)
[1022]صحیح
صحیح مسلم (572)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح،وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَہَذَا حَدِيثُ يُوسُفَ عَنِ الْحَسَنِ ابْنِ عُبَيْدِ اللہِ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ،عَنْ عَلْقَمَةَ،قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ خَمْسًا،فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَہُمْ،فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: لَا،قَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا! فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ،ثُمَّ سَلَّمَ،ثُمَّ قَال:َ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی كَمَا تَنْسَوْنَ.
سیدنا علقمہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔جب آپ پھرے تو لوگ آپس میں چپکے چپکے سے باتیں کرنے لگے۔آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا بات ہے؟‘‘ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ فرمایا ’’نہیں‘‘ انہوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں،تو آپ ﷺ مڑے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور فرمایا ’’بلاشبہ میں بشر ہوں،بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔‘‘