Sunan Abi Dawood Hadith 1023 (سنن أبي داود)
[1023]إسنادہ صحیح
أخرجہ النسائي (665 وسندہ صحیح) وصححہ ابن خزیمۃ (1052 وسندہ صحیح)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَہُ،عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ صَلَّی يَوْمًا،فَسَلَّمَ،وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ،فَأَدْرَكَہُ رَجُلٌ،فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً! فَرَجَعَ،فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ،وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ،فَصَلَّی لِلنَّاسِ رَكْعَةً،فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ،فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا, إِلَّا أَنْ أَرَاہُ،فَمَرَّ بِي،فَقُلْتُ: ہَذَا ہُوَ،فَقَالُوا: ہَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ.
جناب سوید بن قیس ‘ سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت باقی تھی۔تو ایک آدمی آپ ﷺ سے جا کر ملا اور کہا کی آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں۔تو آپ واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی اور آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔میں نے لوگوں کو (بعد میں) اس (واقعہ) کی خبر دی تو انہوں نے مجھے کہا ‘ کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں ‘ لیکن اگر دیکھ لوں تو پہچان جاؤں گا۔چنانچہ وہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص ہے۔تو انہوں نے بتایا کہ یہ طلحہ بن عبیداﷲ ہیں۔