Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1037 (سنن أبي داود)

[1037]حسن

وللحدیث شاھد حسن عند الطحاوي في معانی الآثار (1/ 440 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ،عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ،قَالَ: صَلَّی بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ،فَنَہَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ،قُلْنَا: سُبْحَانَ اللہِ! قَالَ: سُبْحَانَ اللہِ! وَمَضَی،فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَہُ وَسَلَّمَ،سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّہْوِ،فَلَمَّا انْصَرَفَ, قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ. قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاہُ ابْنُ أَبِي لَيْلَی عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ،بْنِ شُعْبَةَ وَرَفَعَہُ. وَرَوَاہُ أَبُو عُمَيْسٍ،عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ صَلَّی بِنَا الْمُغِيرَةُ ابْنُ شُعْبَةَ مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ. قَالَ أَبو دَاود: أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ. وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ. وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ. وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَی بِذَلِكَ. وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ أَبو دَاود: وَہَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ،ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَ مَا سَلَّمُوا.

زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ہم نے سبحان اللہ کہا۔انہوں نے بھی سبحان اللہ کہا اور کھڑے رہے جب نماز پوری کی اور سلام پھیر لیا تو سہو کے دو سجدے کیے۔جب نماز سے پھرے تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا جیسے کہ میں نے کیا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ نے بواسطہ شعبی،سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی مرفوع بیان کیا ہے۔(نیز) ابوعمیس نے ثابت بن عبید سے زیاد بن علاقہ کی مانند روایت کیا ہے ‘ کہا کہ ہم کو مغیرہ بن شعبہ نے نماز پڑھائی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابو عمیس ‘ مسعودی کا بھائی ہے۔سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا تھا جیسے کہ جناب مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کیا۔اور عمران بن حصین،ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کیا۔اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی فتویٰ ہے اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا بھی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتوں پر کھڑے ہو جائیں۔پھر وہ سلام کے بعد سجدے کریں۔