Sunan Abi Dawood Hadith 1622 (سنن أبي داود)
[1622] إسنادہ ضعیف
نسائی (1581،2510)
وقال النسائي: ’’الحسن لم یسمع من ابن عباس‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حُمَيْدٌ أَخْبَرَنَا عَنْ الْحَسَنِ قَالَ خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَہُ اللہُ فِي آخِرِ رَمَضَانَ عَلَی مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ أَخْرِجُوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا فَقَالَ مَنْ ہَاہُنَا مِنْ أَہْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَی إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوہُمْ فَإِنَّہُمْ لَا يَعْلَمُونَ فَرَضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ہَذِہِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَی كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَی صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ رَأَی رُخْصَ السِّعْرِ قَالَ قَدْ أَوْسَعَ اللہُ عَلَيْكُمْ فَلَوْ جَعَلْتُمُوہُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ حُمَيْدٌ وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَی صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَی مَنْ صَامَ
جناب حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے آخر میں بصرہ میں منبر پر خطبہ دیا اور کہا: اپنے روزوں کا صدقہ ادا کرو۔تو گویا لوگوں کو ان کی بات سمجھ میں نہ آئی،تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ میں سے یہاں کون ہے؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ،یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ صدقہ فرض فرمایا ہے کہ ہر آزاد،غلام،مرد،عورت،چھوٹے اور بڑے کی طرف سے کھجور یا جو سے ایک صاع دیا جائے یا گندم کا آدھا صاع اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے ارزانی دیکھی،تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر وسعت فرمائی ہے سو اگر تم ہر چیز سے ایک ایک صاع ہی دیا کرو (تو بہتر اور افضل ہے) حمید بیان کرتے ہیں کہ جناب حسن رحمہ اللہ رمضان کا صدقہ اسی شخص پر لازم سمجھتے تھے،جس نے روزے رکھے ہوں۔