Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1623 (سنن أبي داود)

[1623]صحیح

صحیح بخاری (1468) صحیح مسلم (983)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاہُ اللہُ وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا فَقَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَہُ وَأَعْتُدَہُ فِي سَبِيلِ اللہِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَہِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُہَا ثُمَّ قَالَ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ الْأَبِ أَوْ صِنْوُ أَبِيہِ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل،خالد بن ولید اور عباس نے زکوٰۃ نہ دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابن جمیل،تو اس بات کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا،تو اللہ نے اس کو غنی کر دیا ہے۔رہا خالد بن ولید،تو تم اس پر ظلم کرتے ہو۔اس نے تو اپنی زرہیں اور دیگر سامان اللہ عزوجل کی راہ میں دے دیا ہے۔اور رہے عباس،تو وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں،ان کی زکوٰۃ مجھ پر ہے بلکہ اسی قدر اور بھی۔‘‘ پھر فرمایا ’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے۔‘‘