Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1627 (سنن أبي داود)

[1627]إسنادہ صحیح

أخرجہ النسائي (2597 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (1849)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّہُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَہْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَہْلِي اذْہَبْ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَسَلْہُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُہُ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِہِمْ فَذَہَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَوَجَدْتُ عِنْدَہُ رَجُلًا يَسْأَلُہُ وَرَسُولُ اللہِ ﷺ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ فَتَوَلَّی الرَّجُلُ عَنْہُ وَہُوَ مُغْضَبٌ وَہُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيہِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَہُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُہَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلِقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْہَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْہُ فَقَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْہُ أَوْ كَمَا قَالَ حَتَّی أَغْنَانَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَبُو دَاوُد ہَكَذَا رَوَاہُ الثَّوْرِيُّ كَمَا قَالَ مَالِكٌ

بنو اسد کے ایک شخص سے مروی ہے اس نے کہا: میں اور میرے گھر والوں نے بقیع الغرقد (موجودہ قبرستان مدینہ) کے پاس پڑاؤ کیا،تو میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ سے کچھ مانگ لاؤ کہ اسے ہم کھا سکیں،اور پھر وہ اپنی ضروریات گنوانے لگے۔چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا،میں نے آپ ﷺ کے ہاں ایک شخص کو پایا جو آپ ﷺ سے کچھ مانگ رہا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے ’’میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو تمہیں دوں۔‘‘ پھر وہ آدمی پشت پھیر کر چلا گیا اور وہ ناراض تھا اور کہہ رہا تھا۔قسم میری عمر کی! آپ جسے چاہتے ہیں دے دیتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ اس لیے مجھ پر غصے ہو رہا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں اسے دوں؟ تم میں سے جب کوئی سوال کرتا ہے،حالانکہ اس کے پاس چالیس درہم یا اس کے مساوی کچھ ہو تو اس نے چمٹ کر (بے جا) مانگا ہے۔‘‘ اس اسدی شخص نے بیان کیا،میں نے کہا: ہماری اونٹنی تو ایک اوقیہ سے بہت بہتر ہے،اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے،وہ کہتا ہے۔چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ ﷺ سے کچھ نہ مانگا۔اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور کشمش آ گئی تو آپ ﷺ نے اس میں سے ہمیں بھی عنایت فرمایا،یا اسی طرح سے کہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کر دیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ثوری نے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے کہ مالک نے کہا ہے۔