Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1628 (سنن أبي داود)

[1628]إسنادہ حسن

أخرجہ النسائي (2596 وسندہ صحیح) وصححہ ابن خزیمۃ (2447 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيہِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ سَأَلَ وَلَہُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ فَقُلْتُ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ ہِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ ہِشَامٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْہَمًا فَرَجَعْتُ فَلَمْ أَسْأَلْہُ شَيْئًا زَادَ ہِشَامٌ فِي حَدِيثِہِ وَكَانَتْ الْأُوقِيَّةُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَرْبَعِينَ دِرْہَمًا

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص مانگے،حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) کے مساوی موجود ہو تو اس کا سوال الحاف ہے۔‘‘ (بے جا اصرار ہے) میں نے کہا: میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ہشام کی روایت میں ہے،چالیس درہموں سے بہت بہتر ہے۔چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ ﷺ سے کچھ نہ مانگا۔ہشام کی روایت میں اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا۔