Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1629 (سنن أبي داود)

[1629]إسنادہ صحیح

صححہ ابن خزیمۃ (2391 وسندہ صحیح، 2545) مشکوۃ المصابیح (1848)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُہَاجِرِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ حَدَّثَنَا سَہْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلَاہُ فَأَمَرَ لَہُمَا بِمَا سَأَلَا وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ لَہُمَا بِمَا سَأَلَا فَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَأَخَذَ كِتَابَہُ فَلَفَّہُ فِي عِمَامَتِہِ وَانْطَلَقَ وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَہُ وَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ مَكَانَہُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتُرَانِي حَامِلًا إِلَی قَوْمِي كِتَابًا لَا أَدْرِي مَا فِيہِ كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ بِقَوْلِہِ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَہُ مَا يُغْنِيہِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ النَّارِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ جَمْرِ جَہَنَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ وَمَا يُغْنِيہِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَمَا الْغِنَی الَّذِي لَا تَنْبَغِي مَعَہُ الْمَسْأَلَةُ قَالَ قَدْرُ مَا يُغَدِّيہِ وَيُعَشِّيہِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنْ يَكُونَ لَہُ شِبْعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ وَكَانَ حَدَّثَنَا بِہِ مُخْتَصَرًا عَلَی ہَذِہِ الْأَلْفَاظِ الَّتِي ذَكَرْتُ

سیدنا سہل ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ سے سوال کیا۔تو جو کچھ انہوں نے مانگا،آپ نے انہیں دے دینے کا حکم دیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں اس کی ایک تحریر دے دو،تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو،جو انہوں نے مانگا،لکھ دیا۔چنانچہ اقرع نے وہ خط لیا،اپنی پگڑی میں لپیٹا اور چل دیا۔مگر عیینہ وہ خط لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آ گیا جہاں آپ تشریف فرما تھے اور کہنے لگا اے محمد! آپ کا کیا خیال ہے کہ ((صحیفۃ المتلمس)) کی طرح میں یہ خط لے کر اپنی قوم کے پاس چلا جاؤں،نہ معلوم اس میں کیا ہے؟ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی تلمیح کی وضاحت رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی۔تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (جو شخص مانگتا ہے،حالانکہ بقدر کفایت اس کے پاس موجود ہو تو وہ اپنے لیے آگ ہی کا اضافہ کرتا ہے۔) نفیلی نے دوسری جگہ کہا: (جہنم کے انگارے زیادہ کرتا ہے۔) لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا (مقدار) ہے جو انسان کو کافی ہوتی ہے (اور سوال سے غنی بنا دیتی ہے؟) دوسری جگہ نفیلی کے الفاظ اس طرح تھے۔غنا کی وہ کیا حد ہے جس کے ہوتے ہوئے سوال کرنا لائق نہیں؟ آپ نے فرمایا ’’جس کے پاس صبح و شام کا کھانا موجود ہو۔‘‘ نفیلی کے الفاظ دوسری جگہ یہ تھے۔’’جس کے پاس دن اور رات کے لیے پیٹ بھر کھانا موجود ہو۔“ (امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں) نفیلی نے ہمیں یہ روایت مختصر طور پر اسی طرح بیان کی تھی جو ذکر کی گئی ہے۔