Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1630 (سنن أبي داود)

[1630] إسنادہ ضعیف

الإفریقي: ضعیف

انوار الصحیفہ ص 66

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّہُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ أَنَّہُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَبَايَعْتُہُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا قَالَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ أَعْطِنِي مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ اللہَ تَعَالَی لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِہِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّی حَكَمَ فِيہَا ہُوَ فَجَزَّأَہَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ

سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے بیعت کی اور لمبی حدیث بیان کی اور کہا: پھر ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ مجھے صدقہ میں سے کچھ دیجئیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ عزوجل نے صدقات کی تقسیم کا مسئلہ نبی یا کسی دوسرے کی پسند پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کے بارے میں خود ہی فیصلہ فرمایا ہے۔اور انہیں آٹھ قسم کے افراد میں تقسیم فرما دیا ہے۔اگر تم ان میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دیے دیتا ہوں۔‘‘