Sunan Abi Dawood Hadith 1632 (سنن أبي داود)
[1632] إسنادہ ضعیف
نسائی (2574)
الزھري مدلس وعنعن
وحدیث البخاري (1476) ومسلم (1039) یغني ع[1626] إسنادہ ضعیف
ترمذی (650،651) نسائی (2593) ابن ماجہ (1840)
حکیم بن جبیر ضعیف کما قال النسائي (الضعفاء: 129) وغیرہ،انظر تحفۃ الأقویاء (83)
وقال العیني: ضعفہ الجمھور (عمدۃ القاري 95/11) و قال الھیثمي: ھو متروک،ضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 320/5،وفی المطبوع: حکیم بن عبید وھو خطأ والصواب: حکیم بن جبیر)
وللثوري فیہ تدلیس عجیب لأنہ لم یذکر السند إلٰی آخرہ !نہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
ُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو كَامِلٍ الْمَعْنَی قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِثْلَہُ قَالَ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِہِ لَيْسَ لَہُ مَا يَسْتَغْنِي بِہِ الَّذِي لَا يَسْأَلُ وَلَا يُعْلَمُ بِحَاجَتِہِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْہِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ وَجَعَلَا الْمَحْرُومَ مِنْ كَلَامِ الزُّہْرِيِّ وَہُوَ أَصَحُّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اور حدیث بیان کی) جیسے کہ پہلے گزری ہے (اور) فرمایا ’’لیکن مسکین تو وہ ہے جو (سوال کی عار سے) بچتا اور پاک ہو۔مسدد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا کہ اس کے پاس اس قدر نہ ہو جو کہ اس کی کفایت کرے اور وہ لوگوں سے مانگتا بھی نہ ہو اور نہ لوگوں کو اس کی ضرورت کا علم ہو کہ وہ اس کو صدقہ دیں اسی قسم کا آدمی ’’محروم‘‘ کہلاتا ہے۔‘‘ مسدد نے اپنی روایت میں ((المتعفف الذی لا یسأل)) کا ذکر نہیں کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے ’’محروم‘‘ کا بیان زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔