Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1642 (سنن أبي داود)

[1642]صحیح

صحیح مسلم (1043)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا ہُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا ہُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً فَقَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَكُنَّا حَدِيثَ عَہْدٍ بِبَيْعَةٍ قُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ حَتَّی قَالَہَا ثَلَاثًا فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاہُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ أَنْ تَعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوا بِہِ شَيْئًا وَتُصَلُّوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً قَالَ وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا قَالَ فَلَقَدْ كَانَ بَعْضُ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُہُ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا أَنْ يُنَاوِلَہُ إِيَّاہُ قَالَ أَبُو دَاوُد حَدِيثُ ہِشَامٍ لَمْ يَرْوِہِ إِلَّا سَعِيدٌ

جناب ابومسلم خولانی سے مروی ہے کہ مجھے ایک حبیب (پیارے) اور امین شخص نے حدیث بیان کی۔وہ میرے محبوب اور میرے نزدیک امین ہیں (یعنی) سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ،وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سات یا آٹھ یا نو افراد تھے،تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کر لیتے؟‘‘ حالانکہ ابھی ہم تازہ تازہ بیعت کر چکے تھے۔ہم نے کہا: ہم بیعت کر چکے ہیں،مگر آپ نے اپنی بات تین بار دہرائی۔تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور آپ سے بیعت کی۔ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم (اس سے پہلے) آپ سے بیعت کر چکے ہیں تو اب کس بات پر بیعت کریں؟ آپ نے فرمایا ’’(اس بات پر کہ) اللہ ہی کی عبادت کرو گے،اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے،پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور (احکام شریعت اور حکام کی بات) سنو گے اور مانو گے۔‘‘ اور ایک بات آہستہ سے فرمائی ’’لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے۔‘‘ بیان کیا کہ پھر ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ اگر کسی کی کوئی چھڑی بھی گر جاتی تو وہ کسی اور کو یہ نہ کہتا تھا کہ یہ اٹھا کر مجھے دے دو۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہشام کی حدیث کو سعید کے سوا کسی اور نے روایت نہیں کیا۔