Sunan Abi Dawood Hadith 1644 (سنن أبي داود)
[1644]صحیح
صحیح بخاری (1469) صحیح مسلم (1053)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَعْطَاہُمْ ثُمَّ سَأَلُوہُ فَأَعْطَاہُمْ حَتَّی إِذَا نَفَدَ مَا عِنْدَہُ قَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّہُ اللہُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِہِ اللہُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْہُ اللہُ وَمَا أَعْطَی اللہُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہانصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان کو عنایت فرمایا۔انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ ﷺ نے اور دیا حتیٰ کہ جو کچھ آپ ﷺ کے پاس تھا،جب سب ختم ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’میرے پاس جو مال بھی ہو گا وہ میں تم وہ میں تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔اور جو سوال سے بچے گا اللہ اسے بچائے گا،جو غنا اختیار کرے گا اللہ اس کو غنی بنا دے گا۔اور جو کوئی صبر کرے گا،اللہ اسے صابر بنا دے گا۔اور صبر سے بڑھ کر کوئی ایسی نعمت وسیع نہیں ہے جو اللہ نے کسی کو دی ہو۔‘‘