Sunan Abi Dawood Hadith 1645 (سنن أبي داود)
[1645]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (1852)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَہَذَا حَدِيثُہُ عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ طَارِقٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ أَصَابَتْہُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَہَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُہُ وَمَنْ أَنْزَلَہَا بِاللہِ أَوْشَكَ اللہُ لَہُ بِالْغِنَی إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًی عَاجِلٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جسے انتہائی شدید حاجت آ پڑے اور اس نے اسے لوگوں پر پیش کر دیا تو اس کی وہ حاجت دور نہ ہو گی۔اور جس نے اسے اللہ پر پیش کیا تو عنقریب اللہ تعالیٰ اسے بے پروا کر دے گا۔یا تو جلد ہی موت آ جائے گی (اور دنیا کے بکھیڑوں سے جان چھوٹ جائے گی) یا جلد ہی غنی ہو جائے گا۔(اور کسی کی احتیاج نہ رہے گی)۔‘‘