Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1647 (سنن أبي داود)

[1647]صحیح

صحیح بخاری (7163) صحیح مسلم (1045)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْہَا وَأَدَّيْتُہَا إِلَيْہِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّہِ وَأَجْرِي عَلَی اللہِ قَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَہُ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ

سیدنا ابن ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات کا تحصیلدار بنا کر بھیجا۔جب میں اس کام سے فارغ ہو کر آیا اور جمع ہونے والے صدقات ان کو پیش کیے تو انہوں نے میرے بارے میں حکم دیا کہ اسے اس کا حق الخدمت دیا جائے۔میں نے کہا: (نہیں) میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے اور میرا اجر اللہ پر ہے۔انہوں نے فرمایا جو تمہیں دیا جا رہا ہے وہ لے لو۔میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں (اسی قسم کا) کام کیا تھا،تو آپ نے مجھ اس کا حق الخدمت دیا تھا۔میں نے بھی تمہاری طرح کا جواب دیا تھا،تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا ’’جب تمہیں کوئی چیز بن مانگے دی جائے تو (لے لو اور) کھاؤ اور صدقہ کرو۔‘‘