Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1648 (سنن أبي داود)

[1648]صحیح

صحیح بخاری (1429) صحیح مسلم (1033)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَہُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْہَا وَالْمَسْأَلَةَ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَی السَّائِلَةُ قَالَ أَبُو دَاوُد اخْتُلِفَ عَلَی أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ و قَالَ أَكْثَرُہُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ و قَالَ وَاحِدٌ عَنْ حَمَّادٍ الْمُتَعَفِّفَةُ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے برسر منبر فرمایا جب کہ آپ ﷺ صدقہ اور اس سے بچنے (کی فضیلت) اور سوال کرنے (کی مذمت) بیان کر رہے تھے،فرمایا ’’اوپر والا ہاتھ،نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہوتا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوالی۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں ایوب پر،جو نافع سے روایت کرتے ہیں،اختلاف کیا گیا ہے۔عبدالوارث نے کہا: اوپر والے ہاتھ سے مراد ((المتعففۃ)) ہے یعنی جو سوال نہ کرے۔جب کہ بواسطہ حماد بن زید،ایوب سے روایت کرنے والے اکثر حضرات اوپر والے ہاتھ سے مراد (( المنفقۃ)) یعنی خرچ کرنے والا بیان کرتے ہیں۔حماد سے صرف ایک راوی (مسدد بن مسرہد) نے ((المتعففۃ)) ذکر کیا ہے۔