Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1658 (سنن أبي داود)

[1658]صحیح

صحیح مسلم (987)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ سُہَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَال:َ مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّہُ،إِلَّا جَعَلَہُ اللہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَی عَلَيْہَا فِي نَارِ جَہَنَّمَ،فَتُكْوَی بِہَا جَبْہَتُہُ،وَجَنْبُہُ،وَظَہْرُہُ،حَتَّی يَقْضِيَ اللہُ تَعَالَی بَيْنَ عِبَادِہِ،فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ،ثُمَّ يَرَی سَبِيلَہُ: إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ،وَإِمَّا إِلَی النَّارِ،وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّہَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ،فَيُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُہُ بِقُرُونِہَا،وَتَطَؤُہُ بِأَظْلَافِہَا،لَيْسَ فِيہَا عَقْصَاءُ،وَلَا جَلْحَاءُ،كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاہَا رُدَّتْ عَلَيْہِ أُولَاہَا،حَتَّی يَحْكُمَ اللہُ بَيْنَ عِبَادِہِ،فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ،ثُمَّ يَرَی سَبِيلَہُ: إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ،وَإِمَّا إِلَی النَّارِ،وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّہَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ،فَيُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُہُ بِأَخْفَافِہَا،كُلَّمَا مَضَتْ عَلَيْہِ أُخْرَاہَا،رُدَّتْ عَلَيْہِ أُولَاہَا،حَتَّی يَحْكُمَ اللہُ تَعَالَی بَيْنَ عِبَادِہِ،فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ،ثُمَّ يَرَی سَبِيلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو کوئی صاحب خزانہ اس کا حق ادا نہ کرتا رہا ہو،تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس مال کو اس طرح کر دے گا کہ جہنم کی آگ سے اسے تپایا جائے گا،پھر اس سے اس (کے مالک) کی پیشانی،پہلو اور کمر کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا،اس روز کہ جس کی طوالت (لمبائی) تمہارے شمار سے پچاس ہزار سال ہے،اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا،جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔اور جو کوئی بکریوں والا ان کا حق ادا نہ کرتا رہا تھا،تو قیامت کے روز ان بکریوں کو لایا جائے گا،اس سے زیادہ فربہ حالت میں جتنی کہ وہ پہلے تھیں،اور اسے ایک صاف چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا،چنانچہ وہ بکریاں اسے اپنے سینگوں سے مارنا اور اپنے کھروں سے روندنا شروع کریں گی اور ان میں کوئی بھی مڑے ہوئے سینگوں والی یا بے سینگوں کے نہ ہو گی۔جونہی (ان کا ایک چکر پورا ہو گا اور) آخری بکری گزرے گی پہلے والی کو اس پر لوٹایا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا،اس دن کہ جس کی طوالت تمہارے حساب سے پچاس ہزار سال ہے،اس کے بعد اپنی راہ دیکھے گا،جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔اور جو کوئی اونٹوں والا ان کا حق ادا نہ کرتا رہا تھا،تو قیامت کے روز انہیں لایا جائے گا،اس سے زیادہ فربہ حالت میں،جتنے کہ وہ اس سے پہلے تھے۔اور مالک کو ایک صاف چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور پھر وہ اسے اپنے پیروں سے روندنا شروع کر دیں گے جونہی (ان کا ایک چکر پورا ہو کر) آخری اونٹ گزرے گا،پہلے والے کو لوٹایا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا،اس دن کہ جس کی طوالت تمہارے شمار میں پچاس ہزار سال ہے،پھر اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا،جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔‘‘